4

پاکستان jf 17 block 3 میں ایسی ٹیکنولوجی استعال کرے گا۔چین ٹیکنولوجی دے گا۔

پاکستان jf 17 block 3 میں ایسی ٹیکنولوجی استعال کرے گا۔چین ٹیکنولوجی دے گا۔

یہ پیج آپکو پاکستان اور پاکستان کے مسلح افواج کے بارے میں معلومات / مضامین (ویڈیوز، تصاویر اور تجزیئے) فراہم کرے گا.

برائے مہربانی کمینٹ، لایک اینڈ مت شیئرکرنا نہ بھولے. شکریہ۔

مزید ویڈیوز کیلئے، برائے مہربانی آرٹیکل کے اختتام حصے کو چیک کریں.

برائے مہربانی اس ویڈیو کو دیکھنے کے لئے نیچے سکرال کریں.

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں کے لوگ بیمار ہوئے بغیر 100 سے زائد عرصہ زندہ رہتے ہیں ۔۔۔۔چینی سائنسدانوں نے جب اس راز کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی تو کیا انکشاف ہوا ، کیا چیز کھانا اس علاقے کے لوگوں کی عمر درازی کی وجہ بنا ہوا ہے ؟ پڑھیے ایک شاندار رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) یہ 1970 کا واقعہ ھے جب چین کے صدر کو کینسر کا مرض لاحق ہو گیا صدر صاحب نے ڈاکٹر کو کہا کہ میں علاج بعد میں کرواوں گا پہلے مجھے یہ بتاؤ کینسر ھوتا کیوں ھے؟ صدر ڈاکٹر کے جواب سے مطمئن نہ ھوا تو صدر صاحب نے

چین کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ھیلتھ آکسفورڈ یو نیورسٹی اور امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی کو بیماریوں کی وجوھات معلوم کرنے اور ان کے قدرتی طریقہ علاج ڈونڈھنے پر لگا دیا انھوں نے 25 سال بعد اس تحقیق کو 2005 میں کتابی شکل میں امریکہ سے شائع کیا اور یہ کتاب نیشنل بیسٹ سیلر رہی اس کتاب کا نام “دا چائنا سٹڈی” رکھا گیا چائنا سٹڈی کے سائنسدانوں نے سب سے پہلے دنیا میں ایسے علاقے معلوم کیے

جہاں کے لوگ سو سال سے زیادہ زندہ رہتے ہیں اور کبھی بیمار نہیں ہوتے آزاد کشمیر کی وادی ہنزہ بھی ان علاقوں میں شامل ھے جہاں کے لوگ بیمار ہوے بغیر سو سال سے زیادہ زندہ رہتے ہیں چائنا سٹڈی کے لو گوں نے ھنزہ کے لوگوں کے کھانے کے انداز معلوم کرنے کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ بیمار رہنے والے لو گوں کے علاقے معلوم کیے جہاں کے سب لوگ کسی نہ کسی بڑی بیماری کا شکار رہتے ہیں ان میں ایک جگہ امریکہ میں ہے

جہاں پیما انڈین لوگ رہتے ہیں جہاں پر ہر کوئی کینسر ہارٹ شوگر بی پی گردوں اور جوڑوں کے درد کا مریض ہے چائنا سٹڈی کے لوگ وہاں پہنچ گئے اور ان لو گوں کو اس خوراک پر لگا دیا جو ہنزہ کے لوگ کھاتے ہیں اور ان کی پرانی خوراک بند کر دی 6 ماہ ہی اس خوراک کو کھانے سے ان کی تمام بیماریاں ختم ہو گئیں اور وہ بلکل صحت مند ہو گئے

اور ان کی دوائیوں سے جان چھوٹ گئی ہنزہ کے لوگ ایسا کیا کھاتے ہیں جس کی وجہ سے بیمار نہیں ہوتے وہ صرف خدا کی بنائی ہوئی قدرتی خوراک فروٹ کچی سبزیاں اور میوے کھاتے ہیں اور جو خوراک فیکٹریوں سے گزر کر آتی ہے یعنی پراسیس شدہ ہوتی ہے

ایسی خوراک بلکل نہیں کھاتے یہ ہے صحت مند زندگی کا وہ راز جس کو معلوم کرنے اور دنیا کے ہزاروں کینسر شوگر ہارٹ بی پی فالج گردوں جوڑوں ہیپا ٹائٹس معدے ھاضمے قبض آنکھوں اور جلد کے مریضوں کو ایسی خوراک چھے ماہ تک کھلا کر مکمل صحتیاب کرنےاور ان کی دوائیوں سے جان چھڑا کر اس خوراک کے فوائد کو ثابت کرنے پر چائنا برطانیہ اور امریکہ کی تین یونیورسٹیوں کے 25 سال لگے یہ کتاب” دا چائنا سٹڈی” گوگل سے ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں۔

امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کے 2004 میں ہارٹ کے 4 بار بائی پاس آپریشن ہوے 2005 میں پھیپھڑوں کا آپریشن 2010 میں دو بار ہارٹ میں سٹنٹ رکھے گئے تو بل کلنٹن مرنے کے قریب لا علاج مریض بن گئے تو وائیٹ ہاءوس کے ڈاکٹروں نے آخری حربے کے طور پر صدر صاحب کو چائنا سٹڈی والی خوراک پر لگا دیا 5 ماہ میں ہی صدر صاحب بلکل ٹھیک ہو گئے

اس بات کا ثبوت بل کلنٹن کے سی این این چینل کو دیئے گئے انٹریو میں دیکھ سکتے ہیں اس خوراک کے کرشماتی اثرات دیکھ کر صدر صاحب نے بل کلنٹن فاونڈیشن کے تحت یہ پراجیکٹ بنایا کہ میں جب تک زندہ ہوں امریکہ کے ہر سکول میں جا کر بچوں کو صحت مند زندگی کا راز ضرور بتاوں گا کہ فروٹ کچی سبزیاں اور میوے کھاو اور فیکٹریوں سے گزری ہوئی یعنی پراسیس شدہ خوراک بلکل نہ کھاو جس کو بھی اپنی صحت عزیز ہے وہ اس خوراک کو ضرور اپنا لے میں نے سوچا کہ اگر یہ اتنی سچی حقیقت ہے

تو قرآن میں ضرور ہو گی دیکھیں سورت عبس آیت 24 تا 32 ۔۔۔ پس انسان کو چاہیے کہ اپنی خوراک کی طرف دیکھے بیشک ہم نے خوب زور سے پانی برسایا پھر ہم نے زمین کو پھا ڑ کر چیر ڈالا پھر ہم نے اس میں اناج اگایا اور انگور اور سبزیاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے گھنے باغات اور ( طرح طرح کے ) پھل میوے اور چارہ خود تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے۔۔ قرآن پاک کی ان آیات مبارکہ میں انسان کی خوراک کے سلسلے میں اناج کے بعد تین چیزوں پر زور دیا گیا ہے فروٹ کچی سبزیاں اور میوے۔(ش س م)

خادم اعلیٰ صاحب یہ چیز سونگھو اور ہوش میں آؤ تو تمہیں تمہاری گڈ گورننس خود نظر آ جائے گی ، نامور صحافی نے چھوٹے میاں کو کہیں کا نہ چھوڑا ، اصل حقائق قوم کے سامنے رکھ دیے

لاہور (وییب ڈیسک ) انگریزی کا ایک لفظ ہے Audacity اُردو میں اس کے معنی خود اعتمادی بھی ہے اور ڈھٹائی بھی۔ اسے فقرے کی ساخت میں رکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے یہ کالم لکھنے سے قبل اس لفظ کا اُردو مترادف ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی کوئی ایسا لفظ جو بیک وقت ڈھٹائی

اور خوداعتمادی کی کیفیت کو بیان کرے۔ ناکام رہا۔کسی لفظ سے متعلق کیفیت کو سمجھنا ہو تو اکثر شعر یاد آ جاتے ہیں۔ خاص طورپر غالب کے۔ سادگی وپرکاری،بے خودی وہوشیاری والا شعر شاید Audacityہی کو بیان کرتا ہے۔ تغافل میں جرا¿ت آزمائی کے ذکر سے غالباََ مزید وضاحت ہوجاتی ہے فقط Audacity سے وابستہ تصور مگر پورا شعر لکھ دینے سے بھی بیان نہیں ہوتا۔ ویسے بھی اس کالم کے ذریعے لسانی تشکیلات کے بارے میں کوئی

ادبی مضمون نہیں لکھنا۔ موضوع سیاسی تھا۔ ذکر شہباز شریف صاحب کا کرنا تھا جو اتوار کے دن کراچی میں تھے۔ وہاں ایک موقع پر بڑھک لگادی کہ اگر سندھ کے لوگوں نے اپنے ووٹوں سے انہیں آئندہ انتخابات میں نوازا تو وہ کراچی کو نیویارک بنادیں گے۔ یہ بیان دیتے ہوئے وہ مجھے Audacityکا ارتکاب کرتے سنائی دئیے۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اسے ڈھٹائی کہوں یا خوداعتمادی ”میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی….“ والا شعر بھی نجانے کیوں اس موقع پر یاد آگیا۔

بہرحال شہباز شریف صاحب کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی کو نیویارک بناسکتے ہیں۔ اگرچہ کھل کر یہ نہیں بتاپائے کہ کراچی کو نیویارک بنانے کے لئے وہ پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونا چاہیں گے یا سندھ کے وزیر اعلیٰ،کیونکہ شنید ہے کہ آئین میں 18ویں ترمیم ہوجانے کے بعد کسی

صوبے کا وزیر اعلیٰ ہی اپنی Domainمیں آئے کسی شہر کو پیرس یا نیویارک بناسکتا ہے۔ اگرچہ کسی شہر کو نیویارک بنانے کے لئے باقاعدہ جمہوری ممالک میں اس شہر کا میئرمنتخب ہوجانا ہی کافی ہوتا ہے۔ شہباز صاحب کی ترکی کے ”سلطان اردوان“ سے بہت یاری ہے۔ اردوان اس وقت اپنے ملک میں سیاسی مقبولیت کے حوالے سے اپنے عروج سے لطف اندوزہورہے ہیں۔ اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز انہوں نے استنبول کا میئرمنتخب ہونے سے کیا تھا۔

اردوان جب اس شہر کے میئرمنتخب ہوئے تو بازنطینی اور عثمانیہ سلطنتوں کا مرکز رہا یہ تاریخی شہر کچی بستیوں سے بھرا ہوا تھا۔ بجلی ان بستیوں میں کنڈے ڈال کر استعمال کی جاتی تھی۔ زمینوں پر قبضے ہوتے تھے۔ منشیات فروشوں کے گروہ تھے۔ فحاشی اور جوئے کے اڈے اور انہیں چلانے والے مافیاز۔ استنبول میں جو کچی بستیاں تھیں وہ بھی بتدریج مختلف نسلی یا فرقہ وارانہ گروہوں میں تقسیم ہونا شروع ہوگئیں۔

ریاست کے اندر ریاستیں۔ اردوان نے استنبول کا میئر منتخب ہوجانے کے بعد ان بستیوں کو ”باقاعدہ“بنایا۔ اس باقاعدگی نے اناطولیہ کے مختلف پہاڑی قصبوں سے آئے لاکھوں بے زمین کسانوں اور روزانہ اُجرت کے محتاج مزدور پیشہ لوگوںکو گھروں کا ”مالک“ بنا دیا۔ ان کی Upward Mobilityہوگئی۔ اردوان کی بدولت بتدریج خوش حال ہوئے یہ لوگ ہی اب اس کی اصل طاقت ہیں۔

اس کے خلاف فوجی بغاوت ہوتی ہے تو اسے روکنے کے لئے ٹینکوں کے آگے لیٹ جاتے ہیں۔ شہباز صاحب 2008 سے تخت لہور کے اردوان ہیں۔ انڈرپاسز، اوورہیڈ پل اور میٹرو بسیں متعارف کروائی ہیں سگنل فری شاہراہیں بنائی ہیں۔ لاہور دیکھنے میں اب بہت اچھا، صاف ستھرا اور پھولوں سے بھرا شہر لگتا ہے۔ سوال مگریہ بھی اُٹھتا ہے کہ اس شہر کی ترقی اور خوشحالی سے اصل فائدہ کس نے اٹھایا۔ لوہاری دروازے کی کسی تنگ وتاریک گلی کے خستہ مکان سے اُٹھے کسی غریب نے۔ میری عاجزانہ رائے ہے کہ ہرگز نہیں۔

شہباز شریف نے لاہور کو جو ”پیرس“ بنایا ہے اس کے مزے وہ لوگ اٹھارہے ہیں جن کی معاشی حوالوں سے Upward Mobility 2008 سے کئی برس قبل مختلف وجوہات کی بنا پر ہوچکی تھی۔ ان لوگوں کو اپنی گاڑیوں کے لئے سگنل فری سڑکیں درکار تھیں۔ زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لئے اطالوی یا تھائی کھانے سرو کرتے ریستورانوں کی تلاش تھی۔ خریداری کے لئے برانڈڈ اشیاءبیچتے Mallsکی ضرورت تھی۔ شہباز شریف کا لاہور کو پیرس بنانا درحقیقت نودولتیوں کی سہولت کاری تھی۔

یہ ”ترقی“ بھی Top Down ماڈل کے اتباع میں ہوئی۔ لاہور سے منتخب ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کے ایم این ایز یا ایم پی ایز کا اس میں کوئی حصہ نہ تھا۔ لاہور شہر میں سنا ہے کہ کوئی میئر بھی ہوتا ہے۔ اس کا ”ترقیاتی کاموں“ سے تعلق مگر میں آج تک سمجھ نہیں پایا ہوں LDAکی شہرت ضرور سنی ہے۔ احد چیمہ اس کے چیئرمین ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں احتساب والوں کی قید میں ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ شہباز شریف کا ”مسعود محمود“ برآمد ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

تقریباً روزانہ کی بنیاد پر گزشتہ کئی دنوں سے بہت ہی متحرک ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کی بدولت خلقِ خدا کو تواتر کے ساتھ خبریں اب یہ مل رہی ہیں کہ شہباز صاحب کی ”گڈگورننس“ میں تعلیم اور صحت کا حال دگرگوں ہے۔ پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔ شہباز شریف کے کئی Deliverer مانے افسر سپریم کورٹ کے روبرو ہچکچاتے

اور ماتھوں سے پسینہ پونچھتے نظر آرہے ہیں۔ ان حالات میں شہباز شریف صاحب کراچی پہنچ کر اس شہر کو نیویارک بنانے کا وعدہ کریں تو مجھ ایسے خبطی کو Audacious سنائی دیتے ہیں۔ جس کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا میرے لئے مشکل ہے کہ ان کے اس رویے کو ڈھٹائی کہوں یا ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی۔ اُردو میں مناسب لفظ نہ ملا تو Audacity سے کام چلانے پر مجبور ہوگیا۔

یہ کالم ختم کرتے ہوئے پنجاب کے دس برسوں سے ”خادم اعلیٰ“ کہلواتے شہباز صاحب سے دست بستہ التجا کرتا ہوں کہ انگریزی محاورے والی کافی کو سونگھ کر ذرا ہوش میں آئیں۔ جن ”اداروں“ کے ساتھ وہ ایک مضبوط ”پل“ ہونے کے دعوے دار تھے وہاں سے ان کے متعارف کردہ گورننس ماڈل کے بارے میں شک وشبے بھرے سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ کراچی کو نیویارک بنانے سے پہلے ان سوالات کے کماحقہ جوابات فراہم کرنے کی کوشش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں