3

پشتونوں کے خلاف امریکا کا پلان بی

پشتونوں کے خلاف امریکا کا پلان بی ۔۔۔۔۔۔۔

یاد ہیں فضل اللہ، منگل باغ اور بیت اللہ کے ایف ایم ریڈیو؟

ان ریڈیو چینلز کے ذریعے پشتونوں کو اسلام کے نام پر خود اپنی ہی ریاست کے خلاف جنگ کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ ہزاروں پشتون اس جھانسے میں آئے اور ایک خونریز جنگ ہوئی جس میں خود پشتونوں سمیت ہزاروں پاکستانی شہید ہوگئے۔
pak air force

پاک فوج نے پشتونوں ہی کے ساتھ ملکر اس پلان کو ناکام بنایا تاہم جنگ کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں تاحال پاک فوج موجود ہے اور جنگ سےمتاثرہ پشتونوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔

ٹاپ سٹوری : شام میں جہاد کرو, مگر کس کے خلاف؟

یہ امریکی پلان اے تھا جو ناکام ہوا۔

اب امریکہ براہ راست ڈیوا، مشعال، وائس آف امریکہ اور بی بی سے ریڈیو چینلز کے ذریعے دوبارہ پشتونوں کو ریاست کے خلاف جنگ کی ترغیب دے رہا ہے۔ لیکن اس بار اسلام نہیں بلکہ قوم پرستی اور عصبیت کے نام پر۔
نقیب اللہ محسود جو کہ ایک بے گناہ لڑکا تھا، اور اپنے ملک پاکستان کی فوج سے بے پناہ محبت کرتا تھا، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو بھی فوج میں بھرتی کروانے کا خواہشمند تھا، اس خوبصورت لڑکے کو بھی اسی طرح قتل کروا کر پختونوں کے دل میں ریاست کے لیے نفرت بھرنے کی کوشش کی گئی۔

وہ افغانی جو افغانستان میں پشتونوں کو دیکھتے ہی قتل کر دیتے ہیں پاکستانی سوشل میڈیا پر پشتونوں کی بےشمار آئی ڈیز بنا کر پشتونوں کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مواد پوسٹ کر رہے ہیں۔ دوبارہ سینکڑوں پشتون اس جھانسے میں آچکے ہیں اور سوچے سمجھے بغیر خود اپنی ہی ریاست کو للکار رہے ہیں۔

ٹاپ سٹوری : کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں بھارتی فوج کا بڑا نقصان


pashtoo

امریکہ کی ترغیب مسلسل جاری ہے۔
انڈیا مالی تعاؤن فراہم کرنے پر تیار ہے۔
افغانستان حسب معمول زمین اور جنگجو فراہم کرنے پر آمادہ۔

پشتونوں کو ایک اور جنگ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

پہلی جنگ میں پشتونوں کو نجات دلانے والی پاک فوج کو ظالم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ احمقانہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ ۔۔۔۔۔

پاک فوج جنگ زدہ علاقوں میں چیکنگ کیوں کرتی ہے؟
جنگ زدہ علاقوں میں کرفیو کیوں لگاتی ہے؟
بی ایل اے کی طرح اب ٹی ٹی پی کے افغانستان میں پناہ گزین دہشت گردوں کو مسنگ پرسنگز قرار دیا جا رہا ہے۔
Pakistan army commandos

ٹی ٹی پی کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو نہایت ڈھٹائی سے پاک فوج کے سر تھوپا جا رہا ہے۔ حالانکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاک فوج کو سب سے زیادہ جانی نقصان انہی باردودی سرنگوں سے ہوا ہے۔

فضل الرحمن اور محمود اچکزئی نے پاک فوج کے “فاٹا اصلاحات” نامی پروگرام کو اپنی ہٹ دھرمی سے ناکام بنا کر اس جنگ کے لیے زمین ہموار کی اور نقیب اللہ کے قتل نے چنگاری کا کام کیا۔ اب اس آگ کو تیز سے تیزتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ایک باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر سکے۔

ٹاپ سٹوری : بھارتی فوج میں پھوٹ, بڑی تعداد میں فوجیوں نے لڑائی سے انکارکردیا


Two Politicians pakistani

یہی پشتونوں کے خلاف امریکا کا پلان بی ہے۔

لیکن کیا واقعی پشتون ایک بار پھر خود اپنے ہی خلاف جنگ کرنے پر آمادہ ہوجائنگے؟؟

شائد اس بار ایسا نہ ہو۔ پشتونوں کی ایک بڑی تعداد اس سارے کھیل کو سمجھ رہی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔ ان کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔
pakistani people

ٹاپ سٹوری : بھارتی فضائیہ کا کیپٹن پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے کام کرتا رہا

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں