4

شام میں جہاد کرو, مگر کس کے خلاف؟

امریکی سرپرستی میں جنم لینے والی نام نہاد “عرب سپرنگ” سے متاثرہوکر شامی عوام بھی اپنے جمہوری حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکل آئی۔ شامی سیکیورٹی فورسز نے ان کو روکا، فائرنگ کی اور مبینہ طور پر 6 افراد ہلاک ہوگئے۔

بی بی سی، وائس آف امریکہ، الجزیرہ اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں چیخ اٹھیں اور دنیا بھر میں اس ظلم عظیم کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا۔

یکایک شام میں مسلح بغاوت شروع ہوگئی، جو تیزی سے شام کے تمام شہروں میں پھیل گئی، باغی جدید ترین ہتھیاروں سے لیس تھے۔

امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، قطر، سعودی عرب، ترکی، لیبیا اور اسرائیل سمیت اکثر خلیجی ممالک نے شامی حکومت کے باغیوں کو سپورٹ کرنا شروع کردیا۔

جبکہ روس، ایران اور لبنان نے شامی حکومت کو سپورٹ کرنا شروع کیا۔

جنگ میں فرقہ وارانہ رنگ آیا، داعش نے جنم لیا اور تیز رفتار فتوحات حاصل کیں۔ تب روس اور القاعدہ نے الزام لگایا کہ داعش کو امریکہ ہی سپورٹ کر رہا ہے اور داعش کو پیدا کر کے وہ شام میں باقاعدہ حملوں کا جواز تراش رہا ہے۔
lancer

2014ء میں امریکہ نے بظاہر داعش اور شامی افواج پر باقاعدہ حملے شروع کر دئیے لیکن حیرتناک طور پر داعش کا کنٹرول شام میں بڑھتا چلا گیا۔

2015ء میں روس نے شام میں داعش اور باغیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا جس کے بعد پہلی بار داعش سکڑنے لگی اور باغیوں کو شکست ہونے لگی۔

شامی افواج اور داعش پر کیمیائی حملوں کا الزام ہے۔ شامی حکومت پر کلورین گیس اور داعش پر سلفر گیس کے استعمال کا۔

2017ء میں امریکہ نے شامی افواج پر پہلی بار تباہ کن ٹام ہاک میزائلز سے حملہ کیا اور اس حملے کا جواز شامی افواج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بتایا گیا۔ جبکہ روس نے دعوی کیا کہ مذکورہ کیمیائی ہتھیار صرف امریکہ کے پاس ہیں جس نے یہ کیمیائی حملہ خود کیا تاکہ میزائل حملے کا جواز پیدا کر سکے جیسا کہ اس نے عراق میں کیا تھا۔

ٹاپ سٹوری : فوج نے عوام کو جنگ کے لیئے تیار رہنے کا کیوں کہا

ایک اور دلچسپ بات یہ کہ بشرلاالسد علوی شیعہ ہے لیکن اسکی کمانڈ میں لڑنے والی شامی فوج کی اکثریت سنی ہے۔ اسی طرح بشرلااسد کے باغیوں کو کمانڈ کرنے والوں میں کئی علوی شیعہ بھی شامل ہیں۔
Bashar ul assad

شام میں جنگ ہو کس طرح رہی ہے؟

جن علاقوں میں جنگ جاری ہے وہاں کوئی مستحکم فوجی ٹھکانے موجود نہیں اس لیے وہاں کا کنٹرول لینے والی فورسز سول آبادیوں کے اندر عمارات پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ تب ان کا قبضہ چھڑانے کے لیے آنے والی فورسز ان سول آبادیوں کو ہی نشانہ بناتی ہیں۔ اسی طریقے پر ہر شہر کو کئی کئی بار آپس میں برسرسرپیکار ان تمام فریقوں نے فتح کیا۔

چنانچہ ۔۔۔

شامی افواج کے مختلف شہروں میں باغیوں کے خلاف حملے،

امریکہ کی شامی افواج اور داعش کے خلاف مختلف شہروں پر بمباریاں،

روس کی باغیوں اور داعش کے خلاف شہروں پر بمباریاں،

ایران کی باغیوں کے خلاف مختلف شہری علاقوں میں میزائیل حملے،

ترکی کی کردوں اور داعش پر شہری علاقوں میں حملے،

داعش کی مختلف شہروں پر شیلنگ خاص طور پر مشہور زمانہ کوبانی شہر پر تاریخی شیلنگ،

(یہ کوئی پاک فوج نہیں جس نے پوری پوری آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے بعد جنگیں لڑیں)

نتیجہ کیا رہا؟

ٹاپ سٹوری : عالمی عسکری طاقتوں میں پاکستان کی حیثیت

6 افراد کی ہلاکت کے انتقام میں شروع کی گئی جنگ میں اب تک 600،000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
f 15

جمہوریت اور آزادی اظہار نامی ڈھکوسلوں کے چکر میں پڑ کر جان، مال اور عزت سب کچھ گنوا بیٹھنے والی ملک شام کی تقریباً آدھی آبادی ملک چھوڑ کر دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔

آپ شام میں جہاد کرنا چاہتے ہیں؟

شوق سے کیجے لیکن کس کے خلاف کرینگے؟

امریکہ و روس کے خلاف؟ ۔۔۔ ” وہ تو ہوا میں ہیں “

شامی افواج کے خلاف؟ ۔۔ “ان کے خلاف تو تمام عالم کفر اکھٹا ہوکر لڑرہا ہے بشمول اسرائیل کے، اور شامی فوج کی اکثریت سنی ہے”

ترکی و عرب ممالک کے خلاف ؟ ۔۔۔ ” ترکی پر تو شائد دور جدید کے خلیفہ کی حکومت ہے اور سعودی عرب عالم اسلام کا مرکز “

یا داعش کے خلاف؟ ۔۔۔۔ ” لیکن وہ تو اسلام نافذ کرنا چاہتی ہے “

یا پھر ان سب کے خلاف بیک وقت؟

سنا تھا کہ ایک پاؤ علم کے لیے ایک من عقل کی ضرورت ہوتی ہے، یہاں چٹانک بھر عقل رکھنے والے کہیں سے بھی حدیث اٹھا کر داغ دیتے ہیں کہ ” شام کے جہاد کو لازم پکڑو ” کیسے اور کس کے خلاف؟ اس سوال سے انکا کوئی لینا دینا نہیں۔

وہاں وہ لڑ رہے ہیں یہاں تم لڑنا شروع کردو۔ اور تو اور تڑاک کر کے پہلی بار اسلامی اتحادی افواج کی صورت میں عسکری محاذ پر امت کے اکھٹا ہونے کی کوئی صورت بنی ہے اس کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دو۔

ٹاپ سٹوری : بھارتی آرمی چیف کی پاکست

ان کا حال یہ ہے کہ کہیں سے کوئی ضعیف روایت سامنے آئی کہ کالے جھنڈوں والے اٹھیں گے تو بس جس کے ہاتھ میں کالا جھنڈا دیکھا اسی کو حق مان لیا، اس کو اسلام کے صاف، واضع اور قطعی احکامات پر پرکھے بغیر، درپیش حالات میں ان کے مجموعی کردار کو جانچے بغیر محض وہ جھنڈا دیکھ کر۔

خدا کا واسطہ ہے، عقل کے ناخن لو، حالات کی بڑی تصویر پر نظر رکھو، تمھیں تباہ کیا جا رہا ہے، اس کو روکو بجائے اس کا حصہ بننے کے!

شام کے لیے مسلمان اور اسلامی ممالک کیا کر سکتے ہیں یا کیا کرنا چاہئے اس پر اگلی بار ان شاءاللہ لیکن مختصراً اتنا کہوں گا کہ شامی مسلمانوں کا مرہم جنگ نہیں بلکہ جنگ بندی ہے.
muslims

کیٹاگری میں : War

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں